Posts

5 ملحدین کے سولات

بنیادی سوالات کی فہرست یہ وہ بنیادی سوالات ہیں جو مختلف ادوار میں اہلِ تشکیک، ملحدین، فلسفیوں، سائنس دانوں اور فلسفۂ وجود کے ناقدین نے اپنی کتابوں، مقالات، خطبات اور علمی مباحث میں پیش کیے ہیں۔ سوال نمبر 1: کیا خدا کے وجود کا کوئی حتمی تجرباتی ثبوت موجود ہے؟ سوال نمبر 2: اگر خدا کے وجود کا تجرباتی ثبوت موجود نہیں تو اسے حقیقت کیوں مانا جائے؟ سوال نمبر 3: اگر خدا موجود ہے تو وہ انسانی حواس سے براہِ راست قابلِ ادراک کیوں نہیں؟ سوال نمبر 4: کیا کائنات خود بخود وجود میں آ سکتی ہے؟ سوال نمبر 5: اگر خدا نے کائنات کو پیدا کیا تو خدا کو کس نے پیدا کیا؟ سوال نمبر 6: اگر خدا کامل، قادرِ مطلق اور رحیم ہے تو دنیا میں ظلم، بیماری اور تباہی کیوں موجود ہے؟ سوال نمبر 7: اگر ایک ہی خدا ہے تو مختلف مذاہب اور خدا کے مختلف تصورات کیوں پائے جاتے ہیں؟ سوال نمبر 8: اگر خدا انسانوں سے رابطہ کرتا ہے تو وحی اور الٰہی رہنمائی میں واضح یکسانیت کیوں نہیں؟ سوال نمبر 9: کیا معجزات قوانینِ فطرت کی خلاف ورزی نہیں ہیں؟ سوال نمبر 10: اگر قوانینِ فطرت مستقل ہیں تو معجزات کیسے ممکن ہیں؟ سوال نمبر 11: کیا خدا کا احساس محض ...

1 ملحدین کا مقدمپ

 الحاد کیا ہے انسانی تاریخ میں خدا کے وجود، کائنات کی تخلیق اور زندگی کے مقصد سے متعلق سوالات ہمیشہ سے موجود رہے ہیں۔ انہی سوالات کے جواب میں مختلف مذاہب، فلسفے اور فکری مکاتب وجود میں آئے۔ ان ہی فکری رجحانات میں ایک اہم رجحان الحاد بھی ہے، جو خدا، وحی اور مذہب کے بارے میں روایتی مذہبی نقطۂ نظر سے اختلاف کرتا ہے۔ لیکن الحاد کو سمجھنے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ اس سے مراد کیا ہے اور اس کی حدود کیا ہیں۔ لفظ الحاد عربی زبان کے مادہ "لحد" سے نکلا ہے، جس کے لغوی معنی ہیں: سیدھے راستے سے ہٹ جانا یا ایک طرف مائل ہونا۔ اسلامی علمی اصطلاح میں اس سے مراد دینی عقائد سے انحراف ہے، جبکہ جدید فلسفے میں الحاد (Atheism) اس موقف کو کہا جاتا ہے جس کے مطابق کائنات کے وجود اور اس کے نظم کی تشریح کے لیے خدا کو ضروری نہیں سمجھا جاتا، یا خدا کے وجود کو تسلیم نہیں کیا جاتا۔ تاہم جدید فلسفے میں الحاد ایک یکساں نظریہ نہیں۔ کچھ افراد واضح طور پر خدا کے وجود کا انکار کرتے ہیں، جبکہ بعض صرف یہ کہتے ہیں کہ انہیں خدا کے وجود پر ایمان لانے کے لیے کافی دلائل نہیں ملے۔ اسی لیے فلسفیانہ مباحث میں قطعی الحاد،...